لکھنو،18؍جنوری (آئی این ایس انڈیا) الہ آباد ہائی کورٹ میں آج یوپی حکومت کے تبدیلی مذہب آرڈیننس کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ یوپی حکومت نے عدالت میں سپریم کورٹ میں جاری کیس کی سماعت کا حوالہ دیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں منتقل کرنے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے درخواست دی گئی ہے۔ریاستی حکومت کا مؤقف ہے کہ الگ الگ مقامات پر سماعت کی وجہ سے معاملے سے متعلق پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت عظمی نے اس معاملے میں اسٹے نہیں دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو 25 جنوری تک کا وقت دیا ہے۔ اب 25 جنوری کو دوپہر 2 بجے ہائی کورٹ حتمی کیس کی سماعت کرے گا۔درخواست گزاروں نے تبدیلی مذہب کے آرڈیننس کو آئین کے منافی اور غیر ضروری قرار دیا ہے ۔ درخواست میں آرڈیننس کے غلط استعمال کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یوپی حکومت نے اس معاملے میں 5 جنوری کو اپنا جواب داخل کیا تھا۔ حکومت نے اپنے جواب میں آرڈیننس کو ضروری قرار دیا ہے۔
حکومت نے کہا تھا کہ نظم ونسق کے پیش نظر آرڈیننس لایا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کو چار الگ الگ درخواستوں میں چیلنج کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس گووند ماتھور اور جسٹس ایس ایس شمشیری نے ڈویڑن بینچ میں سماعت کی۔